بنگلورو،9؍جون(پی ٹی آئی/ایس او نیوز) کرناٹک اسمبلی انتخابات میں جنتادل (ایس) نے کانگریس کے ساتھ مل کر اکثریت ثابت کرتے ہوئے حکومت کی تشکیل تو کردی۔ لیکن قلمدانوں کی تقسیم کی وجہ سے موجودہ مخلوط حکومت ابتدائی دور سے ہی کمزور پڑتی نظر آرہی ہے۔
گزشتہ روز کانگریس کے اراکین اسمبلی کی ناراضی کے بعد اب جے ڈی ایس کے چند اراکین نے بھی اپنی ناراضی ظاہر کرنی شروع کردی ہے۔ ان سب کے دوران اسمبلی انتخابات میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری بی جے پی اس کوشش میں لگی ہوئی ہے کہ کس طرح حکومت میں شامل کارکنوں کو توڑ کر وہ اپنے خیمے میں لے آئے تاکہ ایک بار پھر کرناٹک میں بی جے پی کی حکومت بن جائے۔ ہفتہ کو بی جے پی کے لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے سیاسی ہلچل تیز کردی کہ حکمران کانگریس اور جے ڈی ایس کے کئی ناراض اراکین ان کی پارٹی میں شامل ہونے کے لئے تیار ہیں۔
ایڈی یورپا کا دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزارت نہ ملنے سے ناخوش کانگریس کے کچھ اراکین اسمبلی کی باغیانہ سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ نے اپنی پارٹی کے لیڈروں اور کارکنوں سے کہاہے کہ وہ مضبوط اپوزیشن کی شکل میں کام کرے اور 2019ء کے لوک سبھا انتخابات کی تیاریاں شروع کردیں۔ بی جے پی لیڈروں سے خطاب کرتے ہوئے ایڈی یورپا نے کہاکہ جے ڈی ایس اور کانگریس سے ناراض لوگوں کو شامل کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اسمبلی میں 104؍ نشستوں کے ساتھ پارٹی کے پاس پوری طاقت ہے اور ہمیں مخلوط حکومت کی صورتحال کو سامنے رکھ کر ایک مضبوط اپوزیشن کے طورپر کام کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ یہ حکومت کتنے دنوں تک چلے گی یہ ایک الگ معاملہ ہے۔ لیکن ہم سبھی 104؍اراکین اسمبلی ایک کامیاب اپوزیشن کے طورپر کام کریں تاکہ ریاست کی ترقی میں ہر ایک کا اہم رول ہو۔
اُدھر آٹھویں پاس کو وزیربرائے اعلیٰ تعلیم بنانے پر کمارسوامی سوالوں کے گھیرے میں آگئے ہیں، اسی طرح وزیربرائے اعلیٰ تعلیم جی ٹی دیوے گوڈا خود بھی اپنے قلمدان سے خوش نہیں ہیں، انہوں نے اخبارنویسوں کو بتایا کہ وہ اپنا قلمدان تبدیل کرنے کے تعلق سے وزیراعلیٰ سے اپیل کریں گے، البتہ انہوں نے واضح کیا کہ اگر وزیراعلیٰ ان کی درخواست کو قبول نہیں کرتے ہیں تو وہ اپنی اس بڑی ذمہ داری کو بخوبی نبھائیں گے ۔خیال رہے کہ جی ٹی دیوے گوڈا نے میسور میں چامنڈیشوری حلقہ سے سابق وزیراعلیٰ اور ناقابل شکست تسلیم کئے جانے والے سدارامیا کو شکست دی تھی۔
اسی طرح کا حال سی ایس پٹاراجو کا بھی ہے جنہوں نے لوک سبھا سیٹ چھوڑکر میلے کوٹے سے اسمبلی چناؤ لڑا تھا اور وہاں سے جیت بھی حاصل کی تھی۔ انہیں چھوٹی ابپاشی کا قلمدان سونپا گیا ہے اور پٹاراجو بھی اس قلمدان سے ناخوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ اُنہیں دوسرا قلمدان سونپا جائے البتہ انہوں نے صاف کردیا ہے کہ اگر وزیراعلیٰ ان کی درخواست کو قبول نہیں کرتے ہیں تو وہ اپنے اس قلمدان کو بخوبی نبھائیں گے ۔ اس تعلق سے وزیراعلیٰ کماراسوامی نے صاف کردیا ہے کہ وہ کسی بھی وزراء کے قلمدانوں کو تبدیل نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اپنے قلمدانوں سے اس لئے ناخوش ہوں گے کہ انہیں جو قلمدان چاہئے تھا وہ نہیں ملا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ موجودہ حکومت سے ناراض ہیں۔انہوں نے سوال کیاکہ کیا ہرکسی کو ان کی مرضی کے مطابق اچھے سے اچھا محکمہ مل سکتاہے؟ انہوں نے خود ہی جواب دیتے ہوئے کہاکہ شعبہ ایک ہے تو ذمہ داری بھی ایک ہی کی ہوگی۔
وزراء کے قلمدانوں کی اس رسہ کشی کے درمیان وزارت اعلیٰ تعلیم کے معاملہ میں بھی چہ میگوئیاں شروع ہوگئی ہیں کہ اعلیٰ تعلیم کی وزارت آٹھویں پاس شخص کو سونپ دی گئی ہے۔ ایسے شخص کو اعلیٰ تعلیم کا وزیر بنائیں گے تو اعلیٰ تعلیم کا کیا ہوگا کیا وہاں کے بچے آٹھویں سے بڑھ پائیں گے۔ حالانکہ کمار سوامی نے اس پر خود کا دفاع کرتے ہوئے کہاہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتاہے کہ کونسا وزیر کونسی کلاس پاس ہے۔ کس وزیر کی تعلیمی لیاقت کیاہے۔
کماراسوامی اپنی مثال پیش کرتے ہوئے کہاکہ میں نے بھی سائنس کی پڑھائی کی تھی اور میں ریاست کا وزیراعلیٰ ہوں۔ کمار سوامی نے کہاکہ کیا میری تعلیمی لیاقت کے لحاظ سے مجھے وزارت مالیات دینی چاہئے۔ واضح رہے کہ کمار سوامی نے بی ایس سی پاس کیاہے۔ جے ڈی ایس کے رکن اسمبلی جی ٹی دیوے گوڈا کو اعلیٰ تعلیم محکمہ کی وزارت سونپے جانے پر سوشیل میڈیا کے ذریعہ بھی بہت سے سوالات کئے جارہے ہیں۔ قلمدانوں کی تقسیم کے معاملہ میں مخلوط حکومت میں جاری رکسہ کشی کے پیش نظر نائب وزیراعلیٰ جی پرمیشور نے پیر کے دن اراکین اسمبلی کی ایک میٹنگ طلب کی ہے۔